اپنے بچوں کو ایمان والے سے مکالمے کا موقع دیں
اگر کسی صاحبِ ایمان کے ساتھ بچے کا مکالمہ ہوتا رہے تو اُس کا ذہن اُس کے سوالات پر بہت واضح ہوجاتا ہے۔ عقیدت اور تناظر تشکیل پاتے ہیں اور ایمان قوی ہوجاتا ہے۔ یہ آج کے جدید معاشرے میں بہت مجنوں قسم کی بات ہے۔ ہم میں سے بہت تو ایسے ہیں جو ایسی باتوں کو فوراََ سے نظروں سے ہٹا دیتے ہیں اور چند لوگ جو رک کر پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں اُن کو یہ ہضم نہیں ہوتی۔
اس بیان کی کوئی تخیلی شکل نہیں ہوسکتی، کم از کم میں ایسا اپنے دماغ میں سوچ نہیں سکتا۔خیال میں ایسا آتا ہے کہ یہ بات بالکل بے معنی ہے۔ مگر میں یہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب بھی بچہ کسی ایمان والے انسان کےساتھ وقت گزارے گا اس کی زندگی میں ہر جہت سے نور کا رنگ چڑھے گا۔ سوچنا یہ ہے کہ یہ ایمان والا انسان ملے گا کہاں سے؟
کسی تعلیمی ادارے سے؟ کسی مدرسہ سے؟ یہ آج کے جدید دور میں کہیں کسی آن لائن پلیٹ فارم سے؟ بہتر تو یہ ہے کے یہ انسان اس دنیا میں اُس کے گھر میں ہی ملے، اپنے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی کی شکل میں۔ آج سے تقریباََ سو دوسو سال پہلے (انڈسٹریل ایرا سے قبل) یہ ایمان والا بچے کو گھر میں ہی مل جاتا تھا۔ اب کی بات اور ہے، اب جدید تہذیب نے یہ ذمہ داری گھر سے نکال کر آوٹ سورس کردی ہے۔
اللہ ہمیں حق دکھائے، حق سجھائے، اور حق پر عمل کرنے کی توفیق نصیب دے۔ آمین
Comments
Post a Comment